حوزہ نیوز ایجنسی | تاسیس حوزه علمیہ قم کی صد سالہ تقریبات صرف ایک تاریخی موقع نہیں بلکہ ایک فکری موڑ ہے جہاں دین، تمدن اور مستقبل کے درمیان تعلق پر غور کرنا ہے۔ حجت الاسلام ابراهیمی فر کے مطابق، شہید سید علی خامنہ ای وہ شخصیت ہیں جو 'انسان متمدن اسلامی' کی عملی تصویر ہیں۔
انہوں نے کہا: ”شہید خامنہ ای کی شخصیت ایک مکمل دائرۃ المعارف ہے۔ ان کے بیانات میں ابتداء سے لے کر آخر تک فکری ہم آہنگی پائی جاتی ہے کیونکہ ان کا منبع عقل، حکمت اور وحی ہے۔“
حجۃالاسلام ابراهیمی فر نے مزید کہا: ”حوزات علمیہ کو چاہیے کہ وہ شہید رہبر کی شخصیت پر تحقیق کے لیے متعدد ادارے قائم کریں۔ وہ خود اس تمدن کا مجسم نمونہ تھے جس کی صہیونیت مخالفت کرتی ہے۔“
انہوں نے وضاحت کی: ”تمدن و ثقافت دراصل زندگی کے چیلنجوں کا وہ جواب ہے جو کوئی مکتب پیش کرتا ہے۔ مغربی تمدن مادیت، صنعت اور طاقت پر مبنی ہے جہاں معنویت کو کوئی جگہ نہیں۔“
جبکہ تمدن اسلامی معنویت اور مادیت کا متوازن امتزاج ہے۔ ”اسلام میں حقوق انسان، ایثار، ہمدردی اور حتیٰ کہ حیوانات کے حقوق بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر فقہ میں ہے کہ اگر وضو کے پانی کے سامنے کوئی پیاسا جانور ہو تو تم اسے پانی پلاؤ اور خود تیمم کر لو۔“
حجۃ الاسلام ابراهیمی فر کے مطابق، ”تمدن اسلامی معنویت کے بغیر ممکن نہیں، اور معنویت تهذیب کے بغیر نہیں آ سکتی۔ شہید خامنہ ای نے زور دیا کہ طلبہ اور اساتذہ کو جہادِ ثقافت اور تهذیبِ نفس کا امتزاج اپنانا ہوگا۔“
انہوں نے کہا کہ تشیع ہمیشہ نئے مسائل کے مطابق ڈھل سکتا ہے۔ ”حوزات علمیہ کو چاہیے کہ وہ تحول کے ذریعے عوامی ضروریات کا جواب دیں۔“ انہوں نے سب سے بڑا چیلنج استکبار کو قرار دیا جو اس بات سے مخالف ہے کہ دین زندگی اور سیاست کا حصہ ہو۔ استکبار کو اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں کہ لوگ نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، لیکن وہ 'آزاد دین' چاہتے ہیں، 'دینِ اجتماعی' (امامت اور ولایت) نہیں۔ جب دین معاشرے اور سیاست میں آتا ہے تو استکبار اس کا مخالف بن جاتا ہے۔“
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ حوزه علمیہ کا اصل فرض شہید خامنہ ای کو 'مرکزِ تمدنِ اسلامی' کے طور پر پیش کرنا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے — یعنی فقہ، اجتہاد، معنویت اور سماجی ذمہ داری کا امتزاج۔









آپ کا تبصرہ